Gadgets & Hardware

ایپل کے ری فربشڈ MacBook Neo پر 100 ڈالر کی کمی

By bonuz NewsroomPublished August 6, 2026
Apple's Refurbished MacBook Neo Gets $100 Price Cut

ایپل اپنے ری فربشڈ MacBook Neo لیپ ٹاپس پر 100 ڈالر (USD) کا ڈسکاؤنٹ دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ اینٹری لیول مشین حالیہ قیمت میں اضافے سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ ایپل ہارڈویئر تک سستی رسائی طلبہ اور کسی بھی ہلکے پھلکے، بجٹ لیپ ٹاپ کے متلاشی صارف کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

دراصل ہوا کیا

The Verge کے مطابق ری فربشڈ 256GB MacBook Neo کی قیمت اب 699 ڈالر کے بجائے 599 ڈالر ہے۔ Touch ID والا اپ گریڈڈ 512GB ماڈل 799 ڈالر کے بجائے 679 ڈالر میں دستیاب ہے۔ سیل میں چاروں رنگوں کے آپشنز شامل ہیں۔ ہر یونٹ کے ساتھ ایک سال کی مینوفیکچرر وارنٹی دی جاتی ہے، اور خریدار چاہیں تو ایکسٹینڈڈ AppleCare پلان بھی شامل کروا سکتے ہیں۔ MacBook Neo ایپل کے A18 Pro چپ پر چلتا ہے، وہی پروسیسر جو iPhone 16 Pro میں استعمال ہوتا ہے، ساتھ 13 انچ ڈسپلے اور 8GB ریم موجود ہے۔ یہ خبر برڈ بورک (Brad Bourque) نے The Verge کے لیے 5 اگست 2026 کو رپورٹ کی۔

معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا

MacBook Neo ایپل کے سب سے کم قیمت لیپ ٹاپ کے طور پر لانچ ہوا تھا، جو میک کے مخصوص سلیکون کے بجائے فون چپ پر بنایا گیا ہے۔ The Verge کے ریویو میں، جو Antonio G. Di Benedetto نے تحریر کیا، براؤزر بیسڈ کاموں کے لیے اس مشین کی کارکردگی، اسکرین، کی بورڈ اور اسپیکرز کی تعریف کی گئی، تاہم یہ بھی بتایا گیا کہ 8GB ریم اور سست اسٹوریج بھاری ورک لوڈ کے لیے حد بندی کا سبب بنتے ہیں۔ The Verge اس ری فربشڈ قیمت کو حالیہ اضافے سے پہلے والی قیمت کی واپسی کے طور پر بیان کرتا ہے، یعنی موجودہ خریدار عملاً وہی قیمت ادا کر رہے ہیں جو اضافے سے پہلے تھی، البتہ نئے یونٹ کے بجائے ری فربشڈ چینل کے ذریعے۔

آپ کے لیے یہ کیوں اہم ہے

بجٹ خریداروں کے لیے یہ موجودہ ایپل ہارڈویئر تک کم قیمت رسائی کا ایک راستہ ہے، جس کے ساتھ ایک سال کی وارنٹی اور AppleCare کے ذریعے کوریج بڑھانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ طلبہ اور عام صارفین کو براؤزنگ اور ہلکے کام کے لیے ایک قابل مشین نئے یونٹ کی قیمت ادا کیے بغیر مل جاتی ہے۔ توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ چپ مشترک ہے: A18 Pro پہلے ہی ایک فون کو طاقت دیتا ہے اور اب ایک لیپ ٹاپ کو بھی، جو ظاہر کرتا ہے کہ ایپل ایک ہی پروسیسر کو مختلف ڈیوائس زمروں میں کیسے دوبارہ استعمال کرتا ہے۔ سلیکون شیئر کرنے کی یہی حکمتِ عملی مستقبل کے wearables اور اسمارٹ گلاسز کی تشکیل میں بھی کارگر ہو سکتی ہے، جہاں توانائی بخش، فون گریڈ چپس دوہرا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

بڑا سوال یہ ہے

جب کمپنیاں ایک ہی چپ کو فونز، لیپ ٹاپس اور بالآخر wearables میں استعمال کرنے لگیں، تو کیا ہر نئے ڈیوائس زمرے کے لیے مخصوص چپس بنانے کے بجائے مشترک سلیکون ہی معیاری طریقہ بن جائے گا؟

نظر رکھیں

ماخذی مواد میں ری فربشڈ سیل کی کوئی ختم ہونے کی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے دستیابی بغیر پیشگی اطلاع کے تبدیل ہو سکتی ہے۔ ڈیل میں دلچسپی رکھنے والے خریداروں کو خریداری سے پہلے ایپل سے براہِ راست موجودہ اسٹاک اور قیمت کی تصدیق کرنی چاہیے۔ Bonuz یہ جانچتا رہے گا کہ A18 Pro جیسی مشترک چپ حکمتِ عملیاں کس طرح مستقبل کے wearable اور AR ہارڈویئر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

Keep reading