اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے اپنی 2 ٹریلین ڈالر (USD) کی اسٹیبل کوائن مارکیٹ پیش گوئی دو سال کے لیے موخر کر دی ہے، اور اب اس کا ہدف 2028 کے بجائے 2030 مقرر کیا گیا ہے۔ بینک نے اس تاخیر کی وجہ رواں سال اسٹیبل کوائن سپلائی گروتھ کا رک جانا بتائی ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ اسٹیبل کوائن گروتھ سے متعلق پیش گوئیاں پورے کرپٹو مارکیٹ اور ڈیجیٹل ڈالر کو اپنانے کی توقعات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
دراصل ہوا کیا
The Block کی رپورٹ کے مطابق اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے اپنی اسٹیبل کوائن مارکیٹ پیش گوئی پر نظرثانی کرتے ہوئے 2 ٹریلین ڈالر (USD) کا ہدف 2028 سے ہٹا کر 2030 منتقل کر دیا ہے۔ بینک نے اس دو سالہ تاخیر کی وجہ رواں سال اسٹیبل کوائن سپلائی گروتھ میں آنے والا جمود قرار دیا ہے۔ دستیاب رپورٹنگ میں موجودہ کل اسٹیبل کوائن مارکیٹ سائز یا سست روی کی درست رفتار کی تفصیل نہیں دی گئی۔ کسی اضافی تبصرے، ایگزیکٹو کے نام، یا معاون ڈیٹا پوائنٹس کا بھی ذکر دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ یوں یہ نظرثانی 2 ٹریلین ڈالر کے ہدف تک پہنچنے کی مدت کو تقریباً 24 ماہ تک بڑھا دیتی ہے۔ طریقہ کار یا علاقائی تفصیلات سے متعلق مزید معلومات جائزے میں شامل ماخذ مواد میں موجود نہیں تھیں۔
معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا
اسٹیبل کوائنز، یعنی امریکی ڈالر جیسے اثاثوں سے منسلک ڈیجیٹل ٹوکنز، حالیہ برسوں میں کرپٹو مارکیٹس کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی سابقہ پیش گوئی میں 2028 کو وہ سال قرار دیا گیا تھا جب یہ مارکیٹ 2 ٹریلین ڈالر (USD) تک پہنچے گی۔ اب یہ ہدف 2030 تک منتقل کر دیا گیا ہے۔ بینک کی دلیل کا محور اس سال سپلائی گروتھ میں آنے والا جمود ہے، تاہم ماخذ مواد میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ یہ سست روی ریگولیٹری وجوہات، طلب میں کمی، یا ساختی عوامل کی بنا پر ہے۔ ماضی میں بھی بینکوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے دی گئی اسٹیبل کوائن پیش گوئیوں میں اپنانے کے رجحانات بدلنے کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہی ہیں، جو طویل مدتی کرپٹو مارکیٹ سائز کے تخمینوں میں موجود غیریقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے
اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں اور کرپٹو پلیٹ فارمز کے لیے، سست گروتھ ٹائم لائن کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ 2 ٹریلین ڈالر (USD) جلد حاصل کرنے سے جڑی انفراسٹرکچر تعمیر کی جلدی کچھ کم ہو جائے۔ ہولڈرز اور صارفین کے لیے، اسٹیبل کوائن کی دستیابی اور لیکویڈیٹی میں فوری طور پر کوئی تبدیلی متوقع نہیں، کیونکہ یہ تاخیر مارکیٹ میں سکڑاؤ نہیں بلکہ محض ایک پیش گوئی میں نظرثانی ہے۔ اسٹیبل کوائن ریلز پر مبنی پراڈکٹس تیار کرنے والوں کو شاید اپنی کاروباری منصوبہ بندی میں استعمال ہونے والے گروتھ تخمینوں پر نظرثانی کرنی پڑے۔ کرپٹو مارکیٹ سائز کو اپنانے کے پیمانے کے طور پر دیکھنے والے سرمایہ کاروں کو 2030 کے ہدف کو ایک بینک کے تخمینے کے طور پر لینا چاہیے، نہ کہ یقینی نتیجے کے طور پر۔ یہ نظرثانی اس بات کی یاددہانی ہے کہ اسٹیبل کوائن گروتھ، باوجود مستحکم ہونے کے، رواں سال سیدھی لکیر میں نہیں رہی۔
بڑا سوال یہ ہے
اصل سوال یہ ہے کہ رواں سال اسٹیبل کوائن سپلائی گروتھ کو رکنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟ اس کا جواب ریگولیٹری احتیاط، ٹریڈرز اور اداروں کی جانب سے طلب میں کمی، یا موجودہ استعمال کے معاملات میں سنترپتی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی اس پیش گوئی میں تبدیلی انڈسٹری کے لیے ایک وسیع تر سوال بھی کھڑا کرتی ہے: جب گروتھ کے رجحانات ایک ہی سال کے دوران بدل سکتے ہیں، تو کئی سالوں پر محیط کرپٹو مارکیٹ سائز کی پیش گوئیاں کتنی قابل اعتماد ہیں؟
نظر کس پر رکھیں
اگلا سنگ میل جس پر نظر رکھنی چاہیے وہ 2030 ہے، جو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا نیا ہدف سال ہے جب اسٹیبل کوائن مارکیٹ 2 ٹریلین ڈالر (USD) تک پہنچے گی۔ کیا سپلائی گروتھ اس سے پہلے دوبارہ رفتار پکڑتی ہے، اور کتنی تیزی سے، یہ بات اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور دیگر تجزیہ کاروں کی آئندہ پیش گوئیوں پر نظرثانی کی سمت متعین کرے گی۔ دستیاب ماخذ مواد میں کوئی مخصوص عبوری تاریخیں یا رپورٹنگ چیک پوائنٹس شامل نہیں تھے۔



