وارنر برادرز ڈسکوری (WBD) نے Coyote vs. Acme کو مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کی، مگر بعد میں اس کے ڈسٹریبیوشن رائٹس Ketchup Entertainment کو بیچ دیے، جو اب اس فلم کو 28 اگست 2026 کو سینما گھروں میں لے کر آ رہی ہے۔ یہ یو ٹرن اس لیے اہم ہے کیونکہ اس نے یہ ظاہر کر دیا کہ بڑے اسٹوڈیوز کس طرح مکمل ہو چکے کام کو صرف ٹیکس فوائد کے لیے دبا دیتے ہیں، اور پھر جب کوئی اور کمپنی اسے ریلیز کرتی ہے تو خاموشی سے منافع بھی کما لیتے ہیں۔
کیا ہوا اصل میں
The Verge کی رپورٹ کے مطابق، Coyote vs. Acme کو WBD نے تقریباً مکمل طور پر شیلف پر رکھ دیا تھا، اس سے پہلے کہ Ketchup Entertainment نے اس کے ڈسٹریبیوشن رائٹس خرید لیے۔ یہ فلم لائیو ایکشن اور اینیمیشن کا امتزاج ہے، جس میں Wile E. Coyote، Acme Corporation کے خلاف ناقص پروڈکٹس پر مقدمہ دائر کرتا ہے۔ Will Forte وکیل Kevin Avery کا کردار نبھا رہے ہیں جبکہ John Cena مخالف وکیل Buddy Crane کے روپ میں نظر آئیں گے۔ Lana Condor اور Eric Bauza بھی کاسٹ کا حصہ ہیں، جہاں Bauza نے Foghorn Leghorn اور Bugs Bunny دونوں کی آواز دی ہے۔ اسکرپٹ James Gunn، Jeremy Slater اور Samy Burch نے لکھا ہے۔ ریویو نگار Charles Pulliam-Moore نے لکھا کہ WBD نے صرف اپنی اس عادت کی طرف توجہ مبذول کروائی جس میں تقریباً مکمل فلموں کو ٹیکس رائٹ آف کے فائدے کے لیے غائب کر دیا جاتا ہے۔ یہ فلم 28 اگست 2026 کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔
معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا
WBD کا ایک واضح ریکارڈ رہا ہے کہ وہ مکمل ہو چکے پروجیکٹس کو ریلیز کرنے کے بجائے ٹیکس فوائد کے لیے دبا دیتی ہے، جس پر تخلیق کاروں اور ناظرین دونوں کی جانب سے تنقید ہوتی رہی ہے۔ Coyote vs. Acme بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہونے والی تھی، مگر Ketchup Entertainment نے آگے بڑھ کر اس کے رائٹس خرید لیے اور اسے سینما گھروں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ یہ پس منظر اب فلم کو دیکھنے کے انداز کو بھی متاثر کرتا ہے: فلم میں ولن کمپنی Acme کو WBD، Apple، Tesla اور Lockheed Martin کے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ٹائمنگ بھی اہم ہے کیونکہ WBD فی الحال Paramount کے ساتھ ممکنہ انضمام کی کوششوں میں مصروف ہے، ایسا معاہدہ جو اس کی پرانی انٹلیکچوئل پراپرٹی سے متعلق پالیسیوں کو مزید جانچ پڑتال کی زد میں لے آیا ہے۔
یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے
ناظرین کے لیے، اس فلم کا بچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ ایک اور پروجیکٹ ٹیکس فائل میں گم ہونے کے بجائے سینما تک پہنچا۔ تخلیق کاروں کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ مکمل ہو چکا کام، پیرنٹ اسٹوڈیو کے باہر بھی راستہ تلاش کر سکتا ہے، چاہے اسے اندرونی طور پر رائٹ آف کیوں نہ کر دیا گیا ہو۔ WBD کے لیے، Coyote vs. Acme کی باکس آفس کارکردگی اور تنقیدی پذیرائی کو اس کے فیصلوں کے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جائے گا، خاص طور پر جب Paramount کے ساتھ انضمام کا معاملہ ابھی زیرِ التوا ہے۔ دیگر اسٹوڈیوز بھی اس معاملے کو دیکھتے ہوئے شاید اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کریں کہ ایسی مکمل فلموں کے ساتھ کیا کیا جائے جو اب کارپوریٹ حکمتِ عملی میں فٹ نہیں بیٹھتیں، خاص طور پر اگر عوامی ردعمل مہنگا ثابت ہو۔
بڑا سوال
Coyote vs. Acme اس لیے بچ گئی کیونکہ کسی دوسری کمپنی نے اسے خرید لیا، نہ کہ اس لیے کہ کوئی ایسا نظام موجود تھا جو مکمل تخلیقی کام کی حفاظت کرتے ہوئے اس کی ریلیز کو یقینی بناتا۔ یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے: جب کسی میڈیا کمپنی کو مکمل فلم ریلیز کرنے کے بجائے ٹیکس رائٹ آف سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے، تو ناظرین اور تخلیق کاروں کو کام کے یوں ہی غائب ہو جانے سے اصل میں کیا بچاتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید یہ طے کرے کہ صنعت میں جاری انضمام کے دوران اسٹوڈیوز پرانے کرداروں اور مکمل پروجیکٹس کے ساتھ آگے چل کر کیسا سلوک کریں گے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
Coyote vs. Acme 28 اگست 2026 کو سینما گھروں میں ریلیز ہو رہی ہے۔ اس کی باکس آفس کارکردگی اور تنقیدی پذیرائی کو بغور دیکھا جائے گا، کیونکہ یہ اس بات کا ابتدائی اشارہ ہوگا کہ ناظرین WBD کی جانب سے شیلف کیے گئے پروجیکٹس کے معاملے پر کیسا ردعمل دیتے ہیں۔ WBD اور Paramount کے درمیان ممکنہ انضمام کا نتیجہ، جو تحریر کے وقت تک زیرِ التوا ہے، اس بات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں مکمل ہو چکی فلموں کے ساتھ مشترکہ کمپنی کے اندر کیسا سلوک کیا جائے گا۔



