اینویڈیا، کوسٹکو اور نائیکی اُن بڑی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جو OKX اور ICE کے اپنے حصص کو ٹوکنائز کرنے کے منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اس پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر منتخب کی گئی کمپنیوں میں سے تقریباً 70 فیصد پہلے ہی دستبردار ہو چکی ہیں۔ اس معاملے کا نتیجہ یہ طے کرے گا کہ آیا ایکسچینجز کمپنیوں کی رضامندی کے بغیر عوامی حصص کو ٹوکنائز کر سکتے ہیں یا نہیں۔
کیا ہوا دراصل
CoinDesk کے مطابق، OKX اور ICE کے ٹوکنائزڈ اسٹاک ٹریڈنگ منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر چنی گئی کمپنیوں میں سے تقریباً 70 فیصد دستبردار ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اینویڈیا، کوسٹکو اور نائیکی کا نام بھی اس مخالفت میں شامل کمپنیوں میں لیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایپل، ٹیسلا اور ایمیزون سمیت 19 کمپنیوں کی جانب سے تاحال کوئی واضح اعتراض سامنے نہیں آیا، جبکہ 30 دن کی جواب دینے کی مدت اپنے اختتام کے قریب ہے۔ نہ تو OKX اور نہ ہی ICE نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان دیا ہے۔ ذکر کی گئی کسی بھی کمپنی — اینویڈیا، کوسٹکو، نائیکی، ایپل، ٹیسلا یا ایمیزون — کا براہِ راست کوئی بیان ماخذ رپورٹ میں شامل نہیں۔
ہم یہاں تک کیسے پہنچے
ٹوکنائزڈ اسٹاکس بلاک چین پر مبنی ایسے ٹوکنز ہیں جو عوامی کمپنیوں کے حصص کی نقل تیار کرتے ہیں، جس سے معمول کے ٹریڈنگ اوقات سے ہٹ کر بھی خرید و فروخت ممکن ہو جاتی ہے۔ کرپٹو ایکسچینجز اور مالیاتی انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنیاں ایسی مصنوعات کو روایتی ایکویٹی اور ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹوں کے درمیان پل کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، OKX اور ICE کے منصوبے نے بڑی اور معروف کمپنیوں کا ایک گروپ منتخب کیا تھا مگر پہلے ان کی رضامندی حاصل نہیں کی گئی، جس کے باعث تفصیلات سامنے آنے پر کئی کمپنیوں نے دستبرداری اختیار کر لی۔ یہ تنازع اُس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایکسچینجز یہ جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ حقیقی دنیا کے اثاثوں کو کس حد تک ٹوکنائز کر سکتے ہیں، اس سے پہلے کہ خود کمپنیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ ماخذ مواد میں اس سے پہلے کے کسی واقعے یا تنازع کی تفصیل شامل نہیں۔
یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے
مستقبل میں کسی بھی ٹوکنائزڈ شیئر کے حاملین کے لیے یہ تنازع قانونی غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر کمپنیاں آسانی سے دستبردار ہو سکتی ہیں، تو ٹوکن رکھنے والے ایسی مصنوعات کے ساتھ رہ سکتے ہیں جن کا اصل کمپنی کی رضامندی سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ ٹوکنائزیشن پلیٹ فارمز بنانے والوں کے لیے، دستبرداری کی یہ بلند شرح ظاہر کرتی ہے کہ محض تکنیکی تیاری نہیں بلکہ کمپنی کی رضامندی ہی طے کرے گی کہ کون سے اثاثے ٹوکنائز ہو سکتے ہیں۔ عام کرپٹو صارفین کے لیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بلیو چپ ٹوکنائزڈ اسٹاکس کا وعدہ کیا گیا تھا، اصل میں اُس سے کم ہی لانچ ہو سکیں گے۔ OKX جیسی ایکسچینجز کو ٹوکنائزڈ شیئرز پیش کرنے سے پہلے کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست معاہدے کرنے پڑ سکتے ہیں، جس سے پوری انڈسٹری میں رول آؤٹ کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
بڑا سوال
کیا کسی کمپنی کو اپنے حصص کے ٹوکنائزڈ ورژن کو روکنے کا حق ہونا چاہیے، چاہے وہ ٹوکن ایک الگ، ایکسچینج کا جاری کردہ پروڈکٹ ہو اور سرکاری ایکویٹی نہ ہو؟ اس سوال کا جواب یہ طے کرے گا کہ آیا ٹوکنائزڈ ریئل ورلڈ ایسٹس کرپٹو اور روایتی مارکیٹوں کے درمیان ایک مرکزی پل بن پائیں گے، یا قانونی ابہام میں پھنسے رہیں گے۔ یہ سوال اس بات کا بھی تعین کر سکتا ہے کہ آن چین کسی کمپنی کی مالیاتی شناخت پر کنٹرول کس کا ہوگا۔
کیا دیکھنا ہے
رپورٹ کے مطابق کمپنیوں کے اعتراض درج کرانے کی 30 دن کی مدت اپنے اختتام کے قریب ہے، تاہم درست تاریخیں ظاہر نہیں کی گئیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا OKX اور ICE ٹوکنائزڈ اسٹاکس کی فہرست پر نظرثانی کرتے ہیں یا دستبرداریوں پر کوئی باضابطہ ردِعمل جاری کرتے ہیں۔ ایپل، ٹیسلا، ایمیزون یا باقی 19 کمپنیوں کی جانب سے مزید بیانات بھی اس منصوبے کے مستقبل کو واضح کر سکتے ہیں۔



