تحقیقی ادارے Citrini کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ کی ٹوکنائزیشن مہم بٹ کوائن یا ایتھر سے بھی بڑے فاتح پیدا کر سکتی ہے۔ اسٹاکس، بانڈز اور قرضوں کو ٹوکنائز کرنے سے ٹریڈنگ اور قرض دہی کے لیے نئی مارکیٹیں کھل رہی ہیں، اور ادارے کا کہنا ہے کہ اصل فائدہ کوائنز کو نہیں بلکہ فیس کمانے والے پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ہو سکتا ہے۔
اصل میں ہوا کیا؟
CoinDesk کی رپورٹ کے مطابق تحقیقی ادارے Citrini کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ کی جانب سے اسٹاکس، بانڈز اور قرضوں کو ٹوکنائز کرنے کی مہم ٹریڈنگ اور قرض دہی کے لیے نئی مارکیٹیں تشکیل دے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ نئی مارکیٹیں بٹ کوائن یا ایتھر سے بھی بڑے فاتح پیدا کر سکتی ہیں۔ Citrini کی نظر میں سب سے زیادہ فائدہ انہی فیس کمانے والے پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ہوگا جو ٹوکنائزیشن کے گرد بنائی جا رہی ہیں۔ CoinDesk کی اصل رپورٹ میں کسی مخصوص کمپنی کا نام، کوئی ڈالر کی مالیت یا Citrini کا براہِ راست بیان شامل نہیں۔ یہ محض ایک نظریہ ہے کہ ٹوکنائزڈ مالیاتی نظام میں قیمت کہاں جمع ہوگی، نہ کہ کسی ایک اثاثے کی قیمت کے بارے میں پیشگوئی۔
یہاں تک کیسے پہنچے؟
ٹوکنائزیشن کوئی نئی چیز نہیں۔ بینک اور اثاثہ جات کے منیجرز کئی سالوں سے بانڈز اور قرضوں جیسے روایتی اثاثوں کو بلاک چین پر لانے کے تجربات کر رہے ہیں۔ بٹ کوائن اور ایتھر اب تک کرپٹو ایکسپوژر کے لیے پہلی پسند رہے ہیں کیونکہ یہ مارکیٹ کے سب سے زیادہ لیکوڈ اور سب سے زیادہ ہولڈ کیے جانے والے ٹوکنز ہیں۔ Citrini کا دعویٰ اسی روایتی سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ٹوکنائزیشن تجرباتی مرحلے سے نکل کر حقیقی ٹریڈنگ اور قرض دہی کی مارکیٹوں تک پھیلے گی، ان اثاثوں کو پراسیس کرنے والا انفراسٹرکچر اور پلیٹ فارمز، نہ کہ اصل کرپٹو کوائنز، نئی بننے والی قیمت کا بڑا حصہ حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے
بٹ کوائن اور ایتھر رکھنے والوں کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ کرپٹو کا اگلا ترقیاتی مرحلہ تمام ٹوکنز کو یکساں فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ڈویلپرز کے لیے یہ ان پلیٹ فارمز، ایکسچینجز اور لینڈنگ پروٹوکولز کی طرف اشارہ ہے جو ٹوکنائزڈ اسٹاکس، بانڈز اور قرضوں کو سنبھالتے ہیں اور جن پر نظر رکھنی چاہیے۔ عام صارفین کے لیے، ٹوکنائزیشن مستقبل میں ایپس اور والٹس کے ذریعے بانڈز یا پرائیویٹ قرضوں جیسے اثاثوں تک آسان رسائی لا سکتی ہے، بشمول وہ طرز زندگی اور مالیاتی ٹولز جن کا احاطہ bonuz کرتا ہے۔ تاہم یہ سب یقینی نہیں۔ یہ نظریہ اس بات پر منحصر ہے کہ ٹوکنائزیشن اپنے موجودہ حجم سے کہیں آگے بڑھے اور نئے پلیٹ فارمز واقعی وہ فیسیں حاصل کر سکیں جن کا Citrini نے ذکر کیا ہے۔
بڑا سوال
اگر اسٹاکس، بانڈز اور قرضوں کی ٹوکنائزیشن بڑھتی رہی، تو قیمت آخرکار کہاں جا کر ٹھہرے گی؟ کیا یہ انہی پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کے پاس جائے گی جو انفراسٹرکچر تعمیر کرتی ہیں، جیسا کہ Citrini کا دعویٰ ہے؟ یا پھر بٹ کوائن اور ایتھر بطور بنیادی پرت (بیس لیئر) فائدہ اٹھاتے رہیں گے، جس پر زیادہ تر سرگرمی بالآخر سیٹل ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب سرمایہ کاروں کے کرپٹو ایکسپوژر کے بارے میں سوچنے کے انداز کو بدل سکتا ہے۔
کن باتوں پر نظر رکھیں
اصل رپورٹ میں کوئی مخصوص تاریخ، کمپنی یا ڈالر کی مالیت نہیں دی گئی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ Citrini یا دیگر تحقیقی ادارے کن پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کے نام واضح طور پر لیتے ہیں، جیسے جیسے ٹوکنائزیشن تجرباتی مراحل سے نکل کر وسیع پیمانے پر اپنائی جاتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں CoinDesk کی مزید رپورٹنگ اور ٹوکنائزیشن میں سرگرم بینکوں اور اثاثہ جات کے منیجرز کے بیانات ان تفصیلات کو واضح کریں گے۔



