کرپٹو کارڈ فراہم کرنے والی کمپنیاں صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے ری وارڈز پر بھاری رقم خرچ کر رہی ہیں، اور امید لگائے بیٹھی ہیں کہ ٹریڈنگ، لینڈنگ اور اسٹیکنگ سے ہونے والی آمدنی اس لاگت کو پورا کر دے گی۔ یہ بات CoinDesk کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ یہ داؤ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو کمپنیاں روایتی فنٹیک کا وہی پرانا طریقہ اپنا رہی ہیں: پہلے نقصان اٹھا کر ترقی کرو، منافع بعد میں کمانا۔
کیا ہوا دراصل
CoinDesk کے مطابق کرپٹو کارڈ فراہم کنندگان بڑے پیمانے پر ری وارڈ پروگرامز چلانے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ یہ کمپنیاں امید لگائے بیٹھی ہیں کہ ٹریڈنگ، لینڈنگ اور اسٹیکنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی بالآخر ان ری وارڈز کی لاگت پوری کر دے گی اور کارڈ ہولڈرز کو منافع بخش صارفین میں بدل دے گی۔ موجودہ رپورٹنگ میں CoinDesk نے نہ تو کسی مخصوص کمپنی کا نام لیا ہے، نہ کوئی رقم بتائی ہے، اور نہ ہی کوئی ٹائم لائن دی ہے۔ یہ حکمت عملی فنٹیک کے ایک جانے پہچانے فارمولے سے ملتی جلتی ہے: پہلے صارفین کو فیاضانہ مراعات دے کر اپنا یوزر بیس بنایا جائے، پھر دیگر سروسز کے ذریعے کمائی کی جائے۔ فی الحال بنیادی بات یہ ہے کہ کارڈ جاری کرنے والی کمپنیاں ری وارڈز کو صارف حاصل کرنے کی لاگت سمجھ رہی ہیں، مستقل خرچہ نہیں، اور انہیں یقین ہے کہ باقی پروڈکٹ لائنز وقت کے ساتھ یہ حساب برابر کر دیں گی۔
یہاں تک کیسے پہنچے
گزشتہ چند برسوں میں کرپٹو ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ایکسچینجز اور والٹس محض ٹریڈنگ سے ہٹ کر صارفین کو مصروف رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ بہت سی کمپنیوں نے کیش بیک یا ٹوکن ری وارڈ پروگرامز شروع کیے تاکہ ایکٹیو صارفین کی محدود تعداد کے لیے مقابلہ کر سکیں۔ اس مقابلے نے ری وارڈز کو اتنا فیاضانہ بنا دیا ہے کہ یہ اکثر روایتی بینکوں کی پیشکش سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ ایک پرانے فنٹیک نمونے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس عادتیں بنانے کے لیے ابتدائی نقصان قبول کرتے ہیں تاکہ بعد میں کمائی ہو سکے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب کرپٹو کمپنیاں اس فرق کو پاٹنے کے لیے متعدد آمدنی کے ذرائع، یعنی ٹریڈنگ فیس، لینڈنگ اسپریڈ اور اسٹیکنگ یِلڈ کا استعمال کر رہی ہیں۔ یہ ترکیب ایک مکمل مارکیٹ سائیکل میں کام کرتی ہے یا نہیں، یہ ابھی غیر آزمودہ ہے، کیونکہ رپورٹ میں کوئی مخصوص نقصان یا آمدنی کے اعداد و شمار موجود نہیں۔
آپ کے لیے یہ کیوں اہم ہے
اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہی تو کارڈ صارفین کو طویل عرصے تک بھرپور ری وارڈز ملتے رہیں گے، کیونکہ کمپنیوں کو ٹریڈنگ، لینڈنگ اور اسٹیکنگ سے معنی خیز آمدنی حاصل کرنے کے لیے زیادہ حجم درکار ہوگا۔ اگر یہ ناکام ہوئی تو توقع رکھیں کہ ری وارڈ پروگرامز سکڑ جائیں گے یا ختم ہو جائیں گے، جیسا کہ دیگر لائلٹی مارکیٹس میں پہلے ہو چکا ہے۔ بلڈرز کے لیے پیغام واضح ہے: اکیلا کرپٹو کارڈ کوئی کاروباری ماڈل نہیں۔ آمدنی کارڈ کے گرد موجود مالیاتی سروسز کے مجموعے سے آنی چاہیے۔ ہولڈرز اور صارفین کو بھاری ری وارڈز کو عارضی قیمتوں کی پیشکش سمجھنا چاہیے، مستقل فائدہ نہیں، جب تک کمپنیاں یہ ثابت نہ کر دیں کہ ان کی بنیادی آمدنی واقعی اس لاگت کو پورا کر سکتی ہے۔
بڑا سوال
کیا ٹریڈنگ، لینڈنگ اور اسٹیکنگ آمدنی سے چلنے والے ری وارڈز ایک طویل کرپٹو مندی کا سامنا کر سکتے ہیں، یا یہ پروگرامز صرف اس وقت چلتے ہیں جب مارکیٹس متحرک ہوں اور آمدنی زیادہ ہو؟ اس سوال کا جواب یہ طے کرے گا کہ کرپٹو کارڈز ایک پائیدار مالیاتی پروڈکٹ بنتے ہیں یا محض سائیکل پر منحصر ایک مراعاتی چال۔
کیا دیکھنا ہے
CoinDesk کی رپورٹ میں اس رجحان کے لیے کوئی مخصوص تاریخیں یا آئندہ کے سنگ میل شامل نہیں۔ قارئین کو بڑی کرپٹو کارڈ کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی رپورٹس یا فنڈنگ اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے، جن سے معلوم ہوگا کہ ری وارڈز پر خرچ کم ہو رہا ہے یا نقصان بڑھ رہا ہے۔ کوئی بھی کمپنی جو صارف برقراری یا فی کارڈ آمدنی کے اعداد و شمار ظاہر کرے گی، وہ اس حکمت عملی کا اگلا حقیقی امتحان ثابت ہوگی۔



