10/10 فلیش کریش کے ایک سال مکمل ہونے پر کوائن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن اور ایتھر کی آرڈر بکس اس واقعے سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ گہری ہو چکی ہیں۔ آلٹ کوائن لیکویڈیٹی میں وہی بحالی دیکھنے میں نہیں آئی، اور یہ فرق ان تمام لوگوں کے لیے اہم ہے جو ان دو بڑی کرپٹو کرنسیوں کے علاوہ دیگر ٹوکنز میں تجارت کرتے ہیں۔
کیا ہوا تھا
10/10 فلیش کریش نے 10 اکتوبر 2025 کو کرپٹو مارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ٹھیک ایک سال بعد، 10 اکتوبر 2026 کو، کوائن ڈیسک نے رپورٹ دی کہ بٹ کوائن اور ایتھر کی آرڈر بکس اب کریش سے پہلے کی نسبت زیادہ گہری ہیں۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آلٹ کوائن لیکویڈیٹی اسی عرصے میں مسلسل کمزور ہوتی رہی۔ کوائن ڈیسک کے مطابق مارکیٹ بھر میں اسپاٹ ٹریڈنگ والیوم اب بھی اکتوبر 2025 کی بلند ترین سطح سے کافی نیچے ہے۔ رپورٹ میں بٹ کوائن اور ایتھر کو وسیع تر آلٹ کوائن مارکیٹ سے الگ رکھ کر موازنہ کیا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں درست گہرائی کے اعداد و شمار، والیوم کے کل مجموعے، یا متاثرہ انفرادی آلٹ کوائنز کے نام شامل نہیں ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں کسی ٹریڈر، ایکسچینج ایگزیکٹیو، یا تجزیہ کار کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔
ہم یہاں تک کیسے پہنچے
لیکویڈیٹی بحران یہ ظاہر کرتا ہے کہ کون سے اثاثوں کو مضبوط مارکیٹ میکنگ سپورٹ حاصل ہے اور کن کو نہیں۔ 10/10 فلیش کریش نے 10 اکتوبر 2025 کو پوری کرپٹو مارکیٹ کو اسی کسوٹی پر پرکھا۔ کوائن ڈیسک کے مطابق ایکسچینجز اور مارکیٹ میکرز نے گزشتہ ایک سال آرڈر بکس کو دوبارہ تعمیر کرنے میں صرف کیا۔ بٹ کوائن اور ایتھر، جو مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے دو سب سے بڑی کرپٹو کرنسیاں ہیں، اس بحالی سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ آلٹ کوائنز اسی راستے پر نہیں چل سکے۔ رپورٹ میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ کون سے مارکیٹ میکرز واپس آئے، گہرائی کیسے ناپی گئی، یا کن مخصوص آلٹ کوائنز نے لیکویڈیٹی کھوئی، جس سے اس تقسیم کے پیچھے کارفرما میکانزم کے سوالات تشنہ رہ جاتے ہیں۔
یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے
بٹ کوائن اور ایتھر رکھنے والوں کے لیے گہری آرڈر بکس کا مطلب ہے کہ بڑے حجم کی ٹریڈز سے قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ آنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ آلٹ کوائن رکھنے والوں کے لیے صورتحال اس کے برعکس ہے۔ کمزور لیکویڈیٹی کی وجہ سے ایک بڑا سیل آرڈر قیمت میں تیز گراوٹ لا سکتا ہے، اور دباؤ کے دوران پوزیشن سے جلدی نکلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ نئے ٹوکنز لانچ کرنے والے بلڈرز کے لیے ایسے مارکیٹ میکرز کو راغب کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو تنگ اسپریڈز برقرار رکھنے کے لیے تیار ہوں۔ اثاثوں کے درمیان لین دین کرنے والے ٹریڈرز کو چھوٹے ٹوکنز کی نسبت بٹ کوائن اور ایتھر میں تجارت کرنا سستا اور تیز تر محسوس ہو سکتا ہے۔ متنوع آلٹ کوائن پورٹ فولیو رکھنے والے ہر فرد کو پوزیشن کا حجم طے کرتے وقت اس لیکویڈیٹی فرق کو ضرور مدِنظر رکھنا چاہیے۔
بڑا سوال
اگر لیکویڈیٹی مسلسل بٹ کوائن اور ایتھر میں سمٹتی رہی، تو ہزاروں ایسے آلٹ کوائنز کا کیا بنے گا جو فعال ٹریڈنگ پر انحصار کرتے ہوئے زندہ رہتے ہیں؟ ایسی مارکیٹ جہاں صرف سب سے بڑے اثاثوں کو گہری آرڈر بکس حاصل ہوں، سرمایہ کاروں کے تنوع کے بارے میں سوچنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ یہ ایک وسیع تر سوال اٹھاتا ہے کہ آیا کرپٹو مارکیٹ چند لیکویڈ اثاثوں کے گرد مرکوز ہو رہی ہے، اور اس کا مطلب ان بے شمار ٹوکنز کے لیے کیا ہوگا جو وسیع ٹریڈنگ والیوم کے بجائے مخصوص استعمالات کے لیے بنائے گئے تھے۔
کیا دیکھنا ہے
دستیاب رپورٹ میں کوئی مخصوص آئندہ تاریخ شامل نہیں ہے۔ مارکیٹ پر نظر رکھنے والے آنے والے مہینوں میں آرڈر بک کی گہرائی اور اسپاٹ ٹریڈنگ والیوم پر نظر رکھیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آلٹ کوائن لیکویڈیٹی مستحکم ہوتی ہے یا مزید گرتی ہے۔ Bonuz اپنی جاری کرپٹو مارکیٹ کوریج کے حصے کے طور پر ان لیکویڈیٹی رجحانات کی نگرانی جاری رکھے گا۔



